اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی ٹی وی کے مطابق سعودی بادشاہ کی جانب سے مقرن بن عبدالعزیز کی بیعیت کےفرمان کے بعد وزیرخارجہ سعودی الفیصل سمیت دوسرے شہزادے ریاض پہنچ گئے۔
سعودی بادشاہ نے شہزادوں اور حکام کو فرمان جاری کیا ہے کہ وہ اتوار اور پیر کو ریاض میں شاہی محل میں حاضر ہوکر مقرن بن عبدالعزیز کے ہاتھوں پر بیعت کریں۔
اس بنیاد پر سعودی عرب کے دوسرے علاقوں کے لوگوں کو بھی ان علاقوں میں موجود امیروں کے محلوں میں حاضر ہوکر شہزادہ مقرن کے ساتھ اپنی بیعت کا اعلان کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔سعودی بادشاہ نے چار دن پہلے شہزادہ مقرن کو اپنے ولیعھد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کا ولیعھد مقرر کیا ہے۔
سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزيز اور امریکی صدر باراک اوبامہ کی حالیہ ملاقات کے دوران عبداللہ بن عبدالعزیز کا سانس لینے کے لئےآکسیجن استعمال کرنے کا عرب اور سماجی ویب سائٹوں پرکافی چرچارہا، بعض عرب ذرائع ابلاغ نے تو بادشاہ کی خراب صحت کے پیش نظر ان کے جلد ہی اقتدار سے الگ ہوجانے تک کا امکان ظاہر کیا ہے۔
درايں اثنا مصری اخبار النھار نے سعودی بادشاہ کی بیماری میں شدت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انھیں آکسیجن پر رکھے جانے کی خبر کی تصدیق کی ہے۔
جبکہ روزنامہ النھار نے عرب ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ نوے سالہ بیمارسعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیزنے اپنے سوتیلے بھائی شہزادہ مقرن کو اپنے ولیعھد شہزادہ سلمان کا ولیعھد بنا کر اقتدار سے علحدگی کی زمین ہموار کرلی ہے۔
ان حالات میں مجتھد نامی فعال سعودی شخصیت نے، سعودی عرب میں برسراقتدارآل سعود خاندان کی بہت سے رازوں کو آشکار کرکے کافی شہرت اور حمایت حاصل کی ہے۔
مجتھد نے ٹوئٹر پر لکھا کہ اس وقت سعودی عرب پرمسلط خاندان کے شہزادوں میں شدید کشمکش اور رقابت شروع ہوچکی ہے ، اور اگرچہ اب تک شاہی خاندان میں اقتدار کے لئے رسہ کشی پائي جاتی تھی لیکن اس بار ملک عبداللہ بن عبدالعزیز کی جانب سے اپنی موت سے پہلے شہزادہ سلمان اور شہزادہ مقرن کواقتدارسونپنے پر اصرار نے دوسرے شہزادوں کو مشتعل کردیا ہے۔
علاقائي تجزیہ نگاروں کے مطابق آل سعود کی عمر رسیدہ شخصیتوں کےبقول جن میں سے ہرشخص کسی نہ کسی اہم عہدے پر ہے، بڑھاپے اور مختلف بیماروں کی بنا پر اقتدار سے باہر ہورہا ہے یہاں تک کہ شہزادہ سعود الفیصل بھی جو ایک عرصے سے سعودی عرب کے وزیرخارجہ ہيں، بیمار ہیں، اور گذشتہ ایک برس میں اکثرعلاقائی اورعالمی نشستوں میں غائب رہے ہیں۔
..................
242